اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، کل رات سے مسلسل پاکستانی کی فضائی حدود میں آکر پاکستانی سرزمین پر اسرائیلی طیارے کی لینڈنگ کی خبریں گشت کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی روزناموں کے بقول “اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آنے کی خبر سے پاکستان کے اخبار نویس لاعلم ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار ہارٹز کے مدیر نے یہ خبر ٹوئٹر پر دی ہے”[۱] ۔ اسرائیلی اخبار ‘ہاریٹز’ کے مدیر ایوی شراف کی ۲۵ اکتوبر کو صبح دس بجے کی ٹویٹ سے بالکل صاف واضح ہے کہ ایک اسرائیلی طیارہ پاکستان روانہ ہوا ہے ۔ ایوی شراف نےخود ہی بتایا کہ یہ طیارہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے برعکس ایک روز قبل، یعنی بدھ ۲۴ اکتوبر کی صبح اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے اڑا اور اسلام آباد پہنچا۔[۲]
پاکستان میں اسرائیلی طیارے کی آمد کی بات سوشل میڈیا پر تو خوب گرم ہے اور کچھ لوگ اسے سعودی عرب جا کر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ہری جھنڈی دکھانے سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں لیکن پاکستان کےکسی رسمی نیوز چینل نے اس خبر کو نشر نہیں کیا ہے جبکہ ڈیلی پاکستان آن لائن اردو پوائنٹ اور بی بی سی اردو کی سائٹس پر اس سلسلہ سے تفصیل موجود ہے[۳] ، پاکستان میں بڑی خاموشی کے ساتھ اسرائیل کی پرواز کی لینڈنگ اور ۱۰ گھنٹوں سے زائد پاکستانی سرزمین پر اسرائیلی طیارہ کا توقف اپنے آپ میں معنی خیز ہے جبکہ یہ کسی کو نہیں پتہ ہے کہ اسرائیلی خصوصی طیارے میں اسلام آباد کون آیا تھا اس کے بارے میں پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بھی تاحال میڈیا میں اپنے لوگوں کو کسی قسم کی معلومات شئئر نہیں کیں ہیں [۴] ۔جبکہ عالمی فضائی ٹریفک کی مکمل معلومات رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل سے اسلام آباد ایک خصوصی جیٹ نے ۲۴ اکتوبر کو پرواز کی تھی اور دوسری طرف ہارتض نامی اسرائیلی اخبار کے ایڈیٹر نے دعویٰ کے مطابق اسرائیلی طیارہ نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف اڑان بھری تھی اور اسی کے ساتھ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں اسرائیلی اخبار کے ایڈیٹر نےکچھ تصاویر بھی شئیر کیں جسکے بموجب اسرائیلی طیارہ کو اسلام آباد میں اترتے دکھایا گیا ہے علاوہ از ایں پروازوں کی آمدورفت یا لائیو ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ راڈار پر اس پرواز کی اسلام آباد آمد اور دس گھنٹے بعد پرواز کے ثبوت موجود ہیں۔
صرف اتناہی نہیں اردو پوائنٹ کے بقول ” ایک اور غیر ملکی اخبار نے بھی ٹویٹر پر اس دعوے کو بریکنگ نیوز بنا کر شئیر کیا۔ اور کہا کہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا ہے۔ نیتن یاہو نے ایک ایسے ملک کا خفیہ دورہ کیا ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں[۵]۔ان خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اوورمختلف سولاات اُٹھائے جا رہے ہیں، دوسری جانب حکومت اس معاملے پر تاحال خاموش ہے۔
پاکستان میں حکومت کی جانب سے ان دعووں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی جسکی بنا پر مختلف قیاس آرائیوں کے بازار گرم سے گرم تر ہوتے جا رہے ہیں بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ جیو نیٹ ورک سے منسلک پاکستانی صحافی طلعت حسین نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ” اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد اور مبینہ مسافر کی واپسی کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتی جا رہی ہے۔ سرکار کو اس کی وضاحت کرنی ہے۔ اقرار یا انکار۔ خاموشی بڑے مسائل کو جنم دے گی۔ ایران اور دوسرے ممالک کھڑے کانوں کے ساتھ اس افواہ نما خبر کو سن رہے ہوں گے۔ہر طرف سے خبر کے بارے میں حکومت کی جانب سے اظہار نظر کے سلسلہ سے دباو بڑھتا جار ہا ہے لیکن حکومت نے عافیت اسی میں جانی ہے کہ کچھ نہ کہا جائے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی جارہی ہے ۔
بعض تفصیلات کے مطابق بات یہاں تک پہنچ چکی اس سلسلہ میں ٹویٹس کا سلسلہ شروع ہو گیا اور بعض مقامات پر حکومت کے وزیر اطلاعات جانب سے مجبور ہو کر غیر شفاف وضاحت پر یہ ٹیوٹ بھی گرش کر رہا ہے کہ ”جس انداز میں وزیر اطلاعات محض وضاحت مانگنے پر آگ بگولہ ہوئے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔“ یوں تو کسی طیارہ کا کسی جگہ لینڈ کرنا مسئلہ نہیں ہے لیکن چونکہ
پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات نہیں ہیں اس لیے دونوں ممالک میں کیے گئے رجسرڈ طیارے ایک دوسرے کی فضائی حدود میں نہیں آ جا سکتے۔چنانچہ بی بی اردو نے اس سلسلہ سے پوری تفصیل دی ہوئی ہے کہ ” اگر ایک اسرائیلی رجسٹرڈ طیارے کو دہلی یا امرتسر جانا ہو تو اسے چینی یا پھر بحیرہ عرب کی فضائی حدود سے ہوتے ہوئے پاکستانی حدود سے بچ کر جانا ہو گا”۔
ان تمام چیزوں کے باوجود اگر اسرائیلی طیارہ تمام تر فضائی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو جائے سوال دارد اور اگر اس کام کے لئے پہلے سے متعلقہ حکام سے اجازت لی گئی ہے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ اسرائیل کے طیارے کا پاکستان میں آنا یوں ہی سیر سپاٹے کے لئے تو نہیں ہوگا اگر اجازت دی ہے تو کس نے دی اور کیوں دی ؟ طیارے کے بارے میں تو لوگ سوال کر ہی رہے ہیں کہ کیوں پاکستان آیا اس سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ طیارے میں کون لوگ تھے جو آئے ، وہ کہاں گئے ،انکا استقبال کس نے کیا اور ۱۰ گھنٹے تک طیارے کے مسافرین نے کیا کیا ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پاکستانی عوام اپنی حکومت سے پوچھ رہے ہیں یہ سوالات اتنے فطری ہیں کہ نہ صرف پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں ہونگے بلکہ بی بی سی اردو کے کالم نگار طاہربھی اس سلسلہ سے اپنی حساسیت کو نہیں روک سکے اور پاکستان میں اسرائیلی طیارے کے اترنے کے سلسلہ سے اپنی تفصیلی رپورٹ کے ساتھ اس بارے میں سوال کر بیٹھے جسکا انہیں کوئی جواب نہیں مل سکا یہ انہیں کے الفاظ ہیں ۔” اس سلسلے میں وضاحت کے لیے میں نے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا مگر ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا[۶]’’۔اس سوال کے جواب کے نہ ملنے پر انکے تجسس کے ساتھ انکے یہ خدشات بھی اپنی جگہ درست ہیں جو کسی کے ذہن کو بھی مشغول کر سکتے ہیں ” مگر اصل سوال وہیں کا وہیں ہے کہ اس طیارے کے مسافر کون تھے؟ یہ پرواز پاکستان کیا کرنے اتری تھی؟ اس کا خطے کے سیاسی یا سٹریٹجک منظرنامے سے کیا لینا دینا ہے؟ “[۷]لیکن فی الحال ان سوالات کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ، کہیں ایسا نہ ہو یہ طیارہ ،مزید طیاروں کے آنے کا مقدمہ بن جائے اور صہیونیوں نے طیارہ بھیج کر چیک کرنا چاہا ہو کہ دیکھیں اس بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستانی عوام کا نظریہ ہمارے سلسلہ سے کتنا بدلا ہے ، اور عین ممکن ہے صہیونی لابیوں کی طرف سے پاکستانی حکومت کا نظریہ اسرائیل کے سلسلہ سے تبدیل کر کے یہ اندازہ لگانے کی کوشش ہو رہی ہو عوام کا رجحان ہمارے سلسلہ سے کیا ہے ؟ جو بھی ہویہ تمام مفروضے تب تک مفروضے ہی رہیں گے جب تک پاکستانی حکومت کی جانب سے رسمی طور پر اس سلسلہ سے کوئی بیان نہیں آ جاتا ہے ۔ اب لگتا تو یہی ہے کہ طیارے کے اسلام آباد میں اترنے کو جھٹلایا تو نہیں جا سکتا لیکن کوئی اچھی سی کچھڑی ضرور سر جوڑ کر پکائی جا سکتی ہے تو فی الحال تو اندر اندر کھچڑی پک رہی ہے اب دیکھیں کہ عمران خان ڈھکن اٹھا کر کونسی خوشبو بکھیرتے ہیں ۔
[۱] ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو https://www.pakistan24.tv/2018/10/27/17062
[۲] ۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-46000873
[۳] ۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-46000873، https://www.pakistan24.tv/2018/10/27/17062، https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-10-27/news-1721193.html
[۴] ۔ https://www.pakistan24.tv/2018/10/27/17062
[۵] ۔ https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-10-27/news-1721193.html
[۶] ۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-46000873
[۷] ۔ ایضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲